ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء پرمطمئن،خواتین کے دوسرے مسائل پرحکومت کی توجہ کیوں نہیں

مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء پرمطمئن،خواتین کے دوسرے مسائل پرحکومت کی توجہ کیوں نہیں

Sat, 19 Nov 2016 13:06:47    S.O. News Service

بورڈ کی خواتین اراکین کی پریس کانفرنس،اقلیتوں کے حقوق میں مداخلت کی سخت تنقید

کولکاتہ18نومبر(ایجنسی)طلاق ثلاثہ ،تعددازدواج سمیت مسلم پرسنل لاء پراظہاراطمینان کرتے ہوئے اورمسلم پرسنل لاء بورڈکو اپنی حمایت دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی خواتین ارکان نے آج مرکز پر اقلیتوں کے حقوق میں مداخلت کرنے کا الزام لگایااورحکومت سے ملک کی خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے منصوبے لانے کی درخواست کی۔بورڈکے مطابق ملک بھر میں دس کروڑ مسلم خواتین نے مسلم پرسنل لاء پراظہارِاطمینان کیاہے اوربڑی تعدادمیں بورڈکی دستخطی مہم میں حصہ لیا ہے۔بورڈکی ایگزیکٹو کمیٹی رکن اسما ء زہرانے نامہ نگاروں سے کہاکہ ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ہر کسی کو اپنے مذہبی حقوق کااستعمال کرنے کا حق ہے۔ہم مسلمانوں میں تین بارطلاق کی مضبوطی سے حمایت کرتے ہیں اور یکساں سول کوڈ کی مخالفت کرتے ہیں۔حکومت کی طرف سے طلاق ثلاثہ کولے کر غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں،اسما زہرانے کہاکہ مسلم کمیونٹی میں طلاق کی شرح سب سے کم ہے۔دیگر کمیونٹیز میں مختلف ہونے، چھوڑ دینے اور طلاق کی تعداد کئی گنازیادہ ہے۔انہوں نے عصمت دری،جنسی استحصال اورجہیزجیسے معاملات میں خواتین پرہونے والے مظالم کے تئیں حکومتی سردمہری پربھی سوال اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ خواتین کے بے شمارمسائل ایسے ہیں جوفوری طورپرتوجہ طلب ہیں لیکن اس پرتوکوئی توجہ نہیں ہوتی،اس سے حکومت کی نیت اورارادے صاف سمجھ میں آتے ہیں لہٰذاہم تمام خواتین مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی طرح کی مداخلت اورترمیم کی پرزورمخالفت کرتے ہیں۔پریس کانفرنس کوڈاکٹراسماء زہراکے علاوہ نورجہاں شکیل رکن عاملہ مسلم پرسنل لاء بورڈ،صبوحی عزیزاورعظمیٰ عالم نے بھی خطاب کیا۔

 


Share: